Posts

بیوی کا شوہر کی اقتداء میں نماز پڑھنا

سوال کیا بیوی اپنے شوہر کے پیچھے نماز ادا کر سکتی ہے الجواب بعون الملک الوھاب جی بالکل بیوی کا شوہر کے پیچھے نماز پڑھنا شرعا جائز ہے ﺍﻣﺎﻡ ﮐﺎﺳﺎﻧﯽ ﺑﺪﺍﺋﻊ ﺍﻟﺼﻨﺎﺋﻊ ﻣﯿﮟ : ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺼﻠﻮۃ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ تو آپ علیہ السلام ﮔﮭﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﮯ ﻓﺠﻤﻊ ﺍﻫﻠﻪ ﻓﺼﻠﯽ ﺑﻬﻢ ﺟﻤﺎﻋﺔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺎﺋﯽ (153 / 1 ﺑﺪﺍﺋﻊ ﺍﻟﺼﻨﺎﺋﻊ)) ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ قدم ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ قدم ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﻮ اور ﺍﮔﺮ ﺑﯿﻮﯼ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻗﺘﺪﺍء ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮨﺮ ﻭ ﺑﯿﻮﯼ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻓﺎﺳﺪ ﮨﻮﮔﯽ:_: *علامہ شامی فرماتے ہیں ﺍﻟﻤﺮﺃة ﺍﺫﺍ ﺻﻠﺖ ﻣﻊ ﺯﻭﺟﮭﺎ ﻓﯽ ﺍﻟﺒﯿﺖ ﺍﻥ ﮐﺎﻥ ﻗﺪﻣﮭﺎ ﺑﺤﺬﺍء ﻗﺪﻡ ﺍﻟﺰﻭﺝ ﻻ ﺗﺠﻮﺯ ﺻﻼﺗﮭﺎ ﺑﺎﻟﺠﻤﺎﻋۃ ﻭﺍﻥ ﻗﺪﻣﺎ ﮬﺎ ﺧﻠﻒ ﻗﺪﻡ ﺍﻟﺰﻭﺝ ﺍﻻ ﺍﻧﮭﺎ ﻃﻮﯾﻠۃ ﺗﻘﻊ ﺭﺃﺱ ﺍﻟﻤﺮﺃة ﻓﯽ ﺍﻟﺴﺠﻮﺩ ﻗﺒﻞ ﺭﺃﺱ ﺍﻟﺰﻭﺝ ﺟﺎﺯﺕ ﺻﻼﺗﮭﻤﺎ ﺑﺎﻟﺠﻤﺎﻋۃ ﻻﻥ ﺍﻟﻌﺒﺮة ﻟﻠﻘﺪﻡ ﺗﺮﺟﻤﮧ : ﻋﻮﺭﺕ ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ )ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻗﺘﺪﺍء ﻣﯿﮟ ( ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻗﺪﻡ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺩﻭ...

Girvi Makaan ki Shari Hasiyat گروی مکان کی شرعی حیثیت

Image

تعزیہ اور محرم کی غلط رسومات اہلسنت کی نظر میں

تعزیہ اور محرم کی غلط رسومات اہلسنت کی نظر میں  محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اسلام دنیاکا واحد مذہب ہے جس کا اسلامی سال محرم الحرام میں حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ‘ حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور ان کے رفقاء کی بے مثال قربانی سے شروع ہوکر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی لازوال قربانی پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ محرم الحرام شروع ہوتے ہی تعزیہ داروں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ دلوں میں شادیانے بجنے لگتے ہیں‘ مال جمع کرنے کا سیزن آجاتا ہے۔ فورا پرانے تعزیئے ازسر نو بننے شروع ہوجاتے ہیں جبکہ جنہوں نے اپنے پرانے تعزیئے ڈبو دیئے ہوتے ہیں‘ وہ دوبارہ تعزیئے بنانے میں مصروف عمل ہوجاتے ہیں۔ اسٹیل‘ پیتل اور چاندی سے تیار کردہ مصنوعی ہاتھ‘ پائوں‘ آنکھوں اور بازو کی تیاری شروع ہوجاتی ہیں۔ ان کا کاروبار عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ ہرے کپڑے اور نیلے پیلے دھاگے فروخت کرنے والوں کی چاندی ہوجاتی ہے۔ بعض عورتیں اپنے بچوں کو شہدائے کربلا رضوان اﷲ علیہم اجمعین کا فقیر بناتی ہیں جوکہ ان بچوں کو مانگ کر کھلاتی ہیں۔ بعض بدنصیب سنی حضرا...

کیاحضرت بلال کی زبان میں لکنت تھی کہ شین کے بجائے سین ادا ہوتی تھی ؟ حضرت بلال نے اذان نہ دی تو صبح صادق رک گئی تھی ؟

السوال کیاحضرت بلال کی زبان میں لکنت تھی کہ شین کے بجائے سین ادا ہوتی تھی ؟ حضرت بلال نے اذان نہ دی تو صبح صادق رک گئی تھی ؟ السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ کیا یہ روایت صحیح ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اذان نہیں دی تھی تو سورج ہی نہیں نکلا.... الخ الجواب احادیث کی کتابوں میں اس بات کی کوئی اصل نہیں ملتی ہے کہ حضرت بلال کی زبان میں لکنت تھی جسکی وجہ سے آپ کی زبان سے شین کے بجائے سین کا تلفظ ہوتا تھا. پھر اس پر بعض خطیبوں نے یہاں تک گڑھ لیا کہ ایک بار بعض لوگوں کی شکایت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان سے منع کر دیا تو صبح صادق رک گئی تھی. سارے صحابہ کروٹ بدل بدل کر پریشان ہونے لگے تب جاکر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سین بلال عند اللہ شین جب تک وہ اذان نہ دیں صبح نہیں ہوسکتی. لہذا اس بے اصل اور موضوع روایت کو حدیث کے طور پر بیان کرنا جائز نہیں. ٭شیخ مرعی بن یوسف کرمی مقدسی لکھتے ہیں : ومااشتھر علی الألسنۃ من أن بِلالاً رضی اللہ عنہ کان بیدل الشین سینا في الأذان لم ي...

نماز فجر کی سنت اگر جماعت کی وجہ سے نکل گئی اور اس کے بعد ڈیوٹی پر چلے گئے تو کیا جماعت کے فوراً بعد پڑھ سکتے ہیں؟

سوال نماز فجر کی سنت اگر جماعت کی وجہ سے نکل گئی اور اس کے بعد ڈیوٹی پر چلے گئے تو کیا جماعت کے فوراً بعد پڑھ سکتے ہیں؟ جیسا کہ شافعی حضرات کرتے ہیں؟ جواب: نماز فجر کی دو سنتیں اگر فرض سے پہلے نہ پڑھ سکے تو ان کے ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں سورج طلوع ہونے کے تقریباً 20 منٹ بعد ادا کرے۔ فرض کے بعد انسان اپنی جگہ پر بیٹھا رہے، اللہ کا ذکر کرتا رہے۔ البتہ اگر کوئی کام ہے تو وہ اپنا کام کرے اور سورج طلوع ہونے کے بعد فجر کی سنتیں ادا کر لے۔ کیونکہ فجر کی نماز کے بعد کوئی نفل نماز جائز نہیں۔ یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔ ترمذی شریف میں حدیث موجود ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : من لم يصل رکعتی الفجر فليصلها بعد ما تطلع الشمس. جو فجر کی دو رکعت کو ادا نہ کر سکا ہو تو طلوع آفتاب کے بعد ادا کرے۔ سنن النسائی میں حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، اور نہ ہی صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز ہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔ لہذا فجر کی سنتیں اگر رہ جائیں تو سورج طلوع...

الله تعالى كيوں آزماتا ہے؟

الله تعالى كيوں آزماتا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرح متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اللہ رب بندے کو آزماتا ہے کیا؟ اور اگر آپ کا جواب اثبات میں ہے تو فرمائیے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو عالم الغیب ہو وہ بندے کو آزمائے۔۔ کیونکہ منطقی اصول تو یہ سمجھ آتا ہے کہ جسکے بارے میں جانکاری نہ ہو اسے آزمائش میں ڈال کر پرکھا اور سمجھا جاتا ہے اور پھر اسکے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ البتہ اللہ رب العزت کے بارے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ عالم الغیب و الشھادت ہے۔۔۔ آزمائش والی بات میری سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔۔ براہ کرم قرآن و سنت اور فقہ و فلسفہ بیان فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔جزاک اللہ الجواب بعون الملك الوهاب 1)      یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہے۔ 2)      اللہ تعالی اپنے کسی بھی فعل کے متعلق جواب دہ نہیں ہے بلکہ بندہ جو کچھ کریگا اس سے سوال کیا جائے گا۔ جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا: لا يُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ [الأنبياء:233]. ترجمہ: اس سے نہیں پوچھا جاتا  جو وہ کرتا ہے۔ سب بندوں سے سوال ہوگا۔ 3) ...

دوران نماز بار بار ریح خارج ہو تو کیا حکم ہے

سوال السلام علیکم! جی مجھے نماز میں وضو ٹوٹ جانے کی شکایت ہے یعنی ہوا کا خارج ہونا میں بہت پریشان ہوں اس کا اسلام میں کوئی آسان سا حل؟ میں بار بار وضو بھی کرتا ہوں؟ الجواب بعون الوھّاب اللھمّ ھدایۃالحق والصواب وہ شخص جس کو ریح خارج ہونے کی ایسی  بیماری ہوکہ ایک نماز کاپوراوقت گزر جائےاور وہ ہرطرح کی کوشش کے باوجودوُضو کے ساتھ فرض  نمازادا نہ کرسکےبلکہ ہرباردوران نماز ریح  کا اخراج ہوتا رہےتو وہ شخص شرعا معذور ہے ۔ اس  شخص کا حکم یہ ہے کہ نمازکے وقت میں وُضو کرلے اور نمازکے  آخر وقت تک جتنی نمازیں (اداو قضاء) چاہے اس وُضو سے پڑھ سکتاہے ،ریح کے جارج ہونے سے اس کا وُضو نہیں ٹوٹے گا ۔ لہٰذا اگر آپ نماز کے پورے وقت میں ہرطرح کی کوشش کے باوجودوُضو کے ساتھ فرض  نمازادا نہیں کرسکتے بلکہ ہرباردوران نماز ریح کا اخراج ہوتا رہا ہے ،تو آپ  شرعا معذور ہے۔ اور آپ کے لئے شریعت کا آسان حکم یہ ہے کہ آپ نمازکے وقت میں وُضو کرلیں  اور نمازکے  آخر وقت تک جتنی نمازیں (اداو قضاء) چاہے اس وُضو سے پڑھ سکتے ہیں ریح کے جارج ہونے سےآپ  کا وُضو نہ...