کیاحضرت بلال کی زبان میں لکنت تھی کہ شین کے بجائے سین ادا ہوتی تھی ؟ حضرت بلال نے اذان نہ دی تو صبح صادق رک گئی تھی ؟
السوال کیاحضرت بلال کی زبان میں لکنت تھی کہ شین کے بجائے سین ادا ہوتی تھی ؟ حضرت بلال نے اذان نہ دی تو صبح صادق رک گئی تھی ؟ السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ کیا یہ روایت صحیح ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اذان نہیں دی تھی تو سورج ہی نہیں نکلا.... الخ الجواب احادیث کی کتابوں میں اس بات کی کوئی اصل نہیں ملتی ہے کہ حضرت بلال کی زبان میں لکنت تھی جسکی وجہ سے آپ کی زبان سے شین کے بجائے سین کا تلفظ ہوتا تھا. پھر اس پر بعض خطیبوں نے یہاں تک گڑھ لیا کہ ایک بار بعض لوگوں کی شکایت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان سے منع کر دیا تو صبح صادق رک گئی تھی. سارے صحابہ کروٹ بدل بدل کر پریشان ہونے لگے تب جاکر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سین بلال عند اللہ شین جب تک وہ اذان نہ دیں صبح نہیں ہوسکتی. لہذا اس بے اصل اور موضوع روایت کو حدیث کے طور پر بیان کرنا جائز نہیں. ٭شیخ مرعی بن یوسف کرمی مقدسی لکھتے ہیں : ومااشتھر علی الألسنۃ من أن بِلالاً رضی اللہ عنہ کان بیدل الشین سینا في الأذان لم ي...