خواتین کا مردانہ لباس پہننا ؟؟

 سوال:
 کیا عورت کا کسی اور ملک میں جینس یا کوئی اور مردانہ لباس پہننا جائز ہے؟
............................................................................
جواب:
 ............................................................................
اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کی جسمانی طاقت میں تفاوت رکھا ہے،
عورت کی طبیعت میں نزاکت و لطافت رکھی اور اس کو مرد کے لیے باعث سکون اور زینت بنایا،
مرد کی ساخت مضبوط رکھی اور اسے زور آور اور قوی الجثۃ بنایا۔ اس فطری فرق کی وجہ سے مرد و عورت کے لباس و پوشاک اور استعمال کی دیگر چیزوں میں قدرے تفاوت ہونا مناسب و موزوں اور ایک فطری امرہے۔
بنابریں قانون اسلامی (Islamic Laww) میں مرد حضرات کو خواتین کی مشابہت اختیار کرنے اور خواتین کو مرد حضرات کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے،
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردانہ مشابہت رکھنے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
سنن ابوداؤد شریف کتاب اللباس ص 665 میں حدیث پاک ہے:
﴿حد یث نمبر:4101﴾
 عن ابن ابی ملیکۃ قال قیل لعائشۃ ان امرأۃ تلبس النعل فقالت لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الرجلۃ من النساء۔
ترجمہ:
 حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ ایک عورت مردانی جوتا پہنتی ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کی مشابہت رکھنے والی عورت پر لعنت فرمائی۔
مرقاۃ المفاتیح ج 4 ص374میں ہے
ای التی تختص بالرجال۔
لہذا عورت کا جینس یا کوئی اور مردانہ لباس پہننا جائز نہیں ۔
 واللہ اعلم بالصواب –

Comments

Popular posts from this blog

گونگے جانور کی قربانی کا حکم

دوران نماز بار بار ریح خارج ہو تو کیا حکم ہے

آجکل مرد حضرات اپنے کان میں بالی پہنتے ہیں کیا یہ جائزہے؟