چیونٹیوں کو مارنے کیلئے پاوڈر استعمال کرنا
چیونٹیوں کو مارنے کیلئے پاوڈر استعمال کرنا
............................................................................
سوال:
گھر کے کونوں میں چیونٹیاں ہوتی ہیں اکثر اوقات کھانے کی چیزوں میں داخل ہوجاتی ایذا رسانی سے پہلے پاوڈر ڈالنا شرعاً جائز ہے یا نہیں رہبری فرمائیں۔
............................................................................
جواب:
............................................................................
............................................................................
جواب:
چیونٹی اگر کاٹ رہی ہے تو کاٹتے وقت اس کو مارنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور نہ کاٹنے کی صورت میں مار ڈالنا مکروہ ہے ۔ فتاوی عالمگیری ج 5 ص 361 میں ہے
’’ قتل النملۃ ۔۔۔ فیہ والمختار انہ اذا ابتدأت بالاذی لا باس بقتلھا و ان لم تبدی یکرہ قتلھا واتفقوا علی انہ یکرہ القاء ھا فی الماء ‘‘
علماء نے اس بارے میں بحث کی ہے مختار قول یہ کہ اگر تکلیف دینا شروع نہ کرے تو اس کو قتل کرنا مکروہ ہے اور علماء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ چیونٹی کو پانی میں ڈالنا مکروہ ہے ۔ بے وجہ مارنا اس لئے مکروہ ہے کہ چیونٹیاں اللہ سبحانہ تعالی کی تسبیح بیان کرتی ہیں
زجاجۃ المصابیح ج 3 ص 319 میں ہے
’’ و عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرصت نملۃ نبیا من الانبیاء فامر بقریۃ النمل فاحرقت فاوحی اللہ تعالیٰ الیہ ان قرصتک نملۃ احرقت امۃ من الامم تسبح متفق علیہ ‘‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سنہ سے روایت ہےحضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چیونٹی نے ایک نبی کو کاٹا تھا تو انھوں نے چیونٹیوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا تو ان چونٹیوں کی بستی کو جلا دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ تم کو صرف ایک چیونٹی نے کاٹا تھا لیکن تم نے امتوں میں سے ایک امت کو جو تسبیح بیان کرتی تھی جلا ڈالا ۔
واللہ اعلم بالصواب–
............................................................................
سوال:
گھر کے کونوں میں چیونٹیاں ہوتی ہیں اکثر اوقات کھانے کی چیزوں میں داخل ہوجاتی ایذا رسانی سے پہلے پاوڈر ڈالنا شرعاً جائز ہے یا نہیں رہبری فرمائیں۔
............................................................................
جواب:
............................................................................
............................................................................
جواب:
چیونٹی اگر کاٹ رہی ہے تو کاٹتے وقت اس کو مارنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور نہ کاٹنے کی صورت میں مار ڈالنا مکروہ ہے ۔ فتاوی عالمگیری ج 5 ص 361 میں ہے
’’ قتل النملۃ ۔۔۔ فیہ والمختار انہ اذا ابتدأت بالاذی لا باس بقتلھا و ان لم تبدی یکرہ قتلھا واتفقوا علی انہ یکرہ القاء ھا فی الماء ‘‘
علماء نے اس بارے میں بحث کی ہے مختار قول یہ کہ اگر تکلیف دینا شروع نہ کرے تو اس کو قتل کرنا مکروہ ہے اور علماء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ چیونٹی کو پانی میں ڈالنا مکروہ ہے ۔ بے وجہ مارنا اس لئے مکروہ ہے کہ چیونٹیاں اللہ سبحانہ تعالی کی تسبیح بیان کرتی ہیں
زجاجۃ المصابیح ج 3 ص 319 میں ہے
’’ و عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرصت نملۃ نبیا من الانبیاء فامر بقریۃ النمل فاحرقت فاوحی اللہ تعالیٰ الیہ ان قرصتک نملۃ احرقت امۃ من الامم تسبح متفق علیہ ‘‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سنہ سے روایت ہےحضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چیونٹی نے ایک نبی کو کاٹا تھا تو انھوں نے چیونٹیوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا تو ان چونٹیوں کی بستی کو جلا دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ تم کو صرف ایک چیونٹی نے کاٹا تھا لیکن تم نے امتوں میں سے ایک امت کو جو تسبیح بیان کرتی تھی جلا ڈالا ۔
واللہ اعلم بالصواب–
Comments
Post a Comment