بیوی کی موجودگی میں اپنی سالی کی لڑکی سے نکاح کا حکم

سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں
 زید اپنی بیوی کی موجودگی میں اپنی سالی کی لڑکی سے نکاح کر لیا کیا زید کا یہ نکاح درست ہے اصول شرع کی روشنی جواب عنایت فرمائیں
الجواب :
یہ نکاح درست نہیں.
اس بارے میں ایک فقہی اصول یہ ہے کہ :  ہر اس عورت کو بیوی کی موجودگی میں اپنے نکاح میں لانا ممنوع ہے کہ
*اگر بیوی اور اس عورت کے رشتہ میں ایک کو مرد تصور کیا جائے تو ان دونوں کا آپس میں نکاح کرنا جائز نہ ہو. *
مثلا یہاں بیوی کو مرد تصور کرلیں تو یہ اس بچی کا ماموں ٹھہرے گی؛ اور ماموں بھانجی کے درمیان نکاح حرام ہے، اسی طرح اگر بچی کو مرد تصور کریں تو یہ  بچی اس کی بیوی کے لیے بھانجا  ٹھہرے گی؛ اور بھانجا  کا اپنی خالہ سے نکاح حرام ہوتا ہے .
 عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُولَ ﷲِﷺ قَالَ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْةِ وَ عَمَّتِهَا وَلَا بَيْنَ الْمَرْاَةِ وَ خَالَتِهَا " یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : کوئی شخص عورت اور اس کی پھوپھی یا عورت اور اس کی خالہ کو ایک ساتھ (یعنی بیک وقت ایک نکاح میں) جمع نہ کرے " ( صحیح بخاري ، 5 : 1965، رقم: 4820 ، دار ابن کثير اليمامة بيروت)
 لہذا بیوی کی موجودگی میں اپنی سالی کی لڑکی سے نکاح ممنوع ہے، زید پر لازم ہے کہ فوراً علیحدگی اختیار کر لے اور آئندہ اس فعل سے توبہ کرے.
     واللہ تعالٰی اعلم

Comments

Popular posts from this blog

گونگے جانور کی قربانی کا حکم

دوران نماز بار بار ریح خارج ہو تو کیا حکم ہے

آجکل مرد حضرات اپنے کان میں بالی پہنتے ہیں کیا یہ جائزہے؟