کیا عدت گذارنے والی عورت حج کو جاسکتی ہے ؟

سوال
کیا عدت گذارنے والی عورت حج کو جاسکتی ہے ؟ 
............................................................................
جواب:     :
عدت گذارنے والی عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے
:  لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ –

ترجمہ
 تم انہیں ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ نکلیں –
اس آیت کریمہ کی بناء فقہائے کرام نے عورت پر حج واجب ہونے کے شرائط میں بیان کیا ہے کہ وہ عدت کی حالت میں نہ ہو ، خواہ عدت وفات ہو یا عدت طلاق چناچہ وہ دوران عدت' حج کے لئے نہیں جاسکتی –
فتاوی عالمگیری میں ہے :
وَأَمَّا شَرَائِطُ وُجُوبِهِ ۔۔۔۔۔ وَمِنْهَا عَدَمُ قِيَامِ الْعِدَّةِ فِي حَقِّ الْمَرْأَةِ  عِدَّةَ وَفَاةٍ كَانَتْ أَوْ عِدَّةَ طَلَاقٍ ، وَالطَّلَاقُ بَائِنٌ أَوْ رَجْعِيٌّ هَكَذَا فِي شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ فَلَا تَخْرُجُ الْمَرْأَةُ إلَى الْحَجِّ فِي عِدَّةِ طَلَاقٍ أَوْ مَوْتٍ –

(فتاوی عالمگیری ،ج1 ،ص 219 ، كتاب المناسك ، الباب الأول في تفسير الحج ، وفرضيته ووقته وشرائطه ، وأركانه وواجباته وسننه وآدابه ، ومحظوراته )
ونیز بدائع الصنائع میں ہے
: وَكَذَا الْمُعْتَدَّةُ مِنْ طَلَاقٍ رَجْعِيٍّ لَيْسَ لَهَا أَنْ تَخْرُجَ إلَى سَفَرٍ سَوَاءٌ كَانَ سَفَرَ حَجٍّ فَرِيضَةً أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ ، لَا مَعَ زَوْجِهَا وَلَا مَعَ مَحْرَمٍ غَيْرِهِ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا أَوْ يُرَاجِعَهَا لِعُمُومِ قَوْله تَعَالَى لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ -

ترجمہ: اسی طرح طلاق رجعی کی عدت گذارنے والی عورت کے لئے سفر کرنا جائز نہیں ، خواہ فریضہ حج کا سفر ہو یا کوئی اور ، نہ شوہر کے ساتھ جانا جائز ہے اور نہ اس کے علاوہ کسی محرم کس ساتھ سفر کرنا درست ہے ، یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہوجائے یا شوہر اسے لوٹالے -
(بدائع الصنائع ،كتاب الطلاق ، فصل في احكام العدة , ج 3 , ص 326)
واللہ اعلم بالصواب –

Comments

Popular posts from this blog

گونگے جانور کی قربانی کا حکم

دوران نماز بار بار ریح خارج ہو تو کیا حکم ہے

آجکل مرد حضرات اپنے کان میں بالی پہنتے ہیں کیا یہ جائزہے؟